Saturday, June 5, 2010

100 BEST NOVELS!


100 BEST NOVELS!

I have a keen interest in reading classic fiction. Here is the list of 100 classics/best novels I want to read.Please suggest some more good books to me .

PS:  The titles maked in Red Font are those novels I have already read. 

Thanks


Rank
Title of Great Novel
Year
Author
Religious Affiliation of Author
1
Don Quixote
1605, 1630
Miguel de Cervantes
Catholic
2
War and Peace
1869
Leo Tolstoy
Russian Orthodox
3
Ulysses
1922
James Joyce
Catholic (lapsed)
4
In Search of Lost Time
1913-27
Marcel Proust
Jewish Catholic
5
The Brothers Karamazov
1880
Feodor Dostoevsky
Russian Orthodox
6
Moby-Dick
1851
Herman Melville
Transcendentalist
7
Madame Bovary
1857
Gustave Flaubert
Catholic
8
Middlemarch
1871-72
George Eliot
Anglican; agnostic
9
The Magic Mountain
1924
Thomas Mann
Lutheran
10
The Tale of Genji
11th Century
Murasaki Shikibu
Buddhist/Shinto culture
11
Emma
1816
Jane Austen
Anglican
12
Bleak House
1852-53
Charles Dickens
Anglican
13
Anna Karenina
1877
Leo Tolstoy
Russian Orthodox
14
Adventures of Huckleberry Finn
1884
Mark Twain
Presbyterian
15
Tom Jones
1749
Henry Fielding

16
Great Expectations
1860-61
Charles Dickens
Anglican
17
Absalom, Absalom!
1936
William Faulkner
Presbyterian
18
The Ambassadors
1903
Henry James
Anglican
19
One Hundred Years of Solitude
1967
Gabriel Garcia Marquez
Catholic
20
The Great Gatsby
1925
F. Scott Fitzgerald
Catholic
21
To The Lighthouse
1927
Virginia Woolf
Neo-pagan
22
Crime and Punishment
1866
Feodor Dostoevsky
Russian Orthodox
23
The Sound and the Fury
1929
William Faulkner
Presbyterian
24
Vanity Fair
1847-48
William Makepeace Thackeray

25
Invisible Man
1952
Ralph Ellison

26
Finnegan’s Wake
1939
James Joyce
Catholic (lapsed)
27
The Man Without Qualities
1930-43
Robert Musil
Catholic
28
Gravity's Rainbow
1973
Thomas Pynchon
Catholic; agnostic
29
The Portrait of a Lady
1881
Henry James
Anglican
30
Women in Love
1920
D. H. Lawrence

31
The Red and the Black
1830
Stendhal
Catholic
32
Tristram Shandy
1760-67
Laurence Sterne
Anglican (Church of Ireland clergyman)
33
Dead Souls
1842
Nikolai Gogol
Russian Orthodox
34
Tess of the D'Urbervilles
1891
Thomas Hardy

35
Buddenbrooks
1901
Thomas Mann
Lutheran
36
Le Pere Goriot
1835
Honore de Balzac
Catholic
37
A Portrait of the Artist as a Young Man
1916
James Joyce
Catholic (lapsed)
38
Wuthering Heights
1847
Emily Bronte
Anglican
39
The Tin Drum
1959
Gunter Grass
Catholic
40
Molloy; Malone Dies; The Unnamable
1951-53
Samuel Beckett
Church of Ireland (Anglican)
41
Pride and Prejudice
1813
Jane Austen
Anglican
42
The Scarlet Letter
1850
Nathaniel Hawthorne
Transcendentalist
43
Fathers and Sons
1862
Ivan Turgenev
Russian Orthodox; agnostic
44
Nostromo
1904
Joseph Conrad
Catholic; atheist
45
Beloved
1987
Toni Morrison

46
An American Tragedy
1925
Theodore Dreiser
Catholic; Congregationalist; Chrisitan Science
47
Lolita
1955
Vladimir Nabokov
Russian Orthodox
48
The Golden Notebook
1962
Doris Lessing

49
Clarissa
1747-48
Samuel Richardson

50
Dream of the Red Chamber
1791
Cao Xueqin

51
The Trial
1925
Franz Kafka
Jewish
52
Jane Eyre
1847
Charlotte Bronte
Anglican
53
The Red Badge of Courage
1895
Stephen Crane
Methodist
54
The Grapes of Wrath
1939
John Steinbeck
Episcopalian
55
Petersburg
1916/1922
Andrey Bely
Russian Orthodox; Theosophy; Spiritualism
56
Things Fall Apart
1958
Chinue Achebe

57
The Princess of Cleves
1678
Madame de Lafayette

58
The Stranger
1942
Albert Camus
Catholic; Existentialism
59
My Antonia
1918
Willa Cather
Episcopalian
60
The Counterfeiters
1926
Andre Gide

61
The Age of Innocence
1920
Edith Wharton

62
The Good Soldier
1915
Ford Madox Ford
Catholic; agnostic
63
The Awakening
1899
Kate Chopin
Catholic
64
A Passage to India
1924
E. M. Forster

65
Herzog
1964
Saul Bellow
Orthodox Jew (lapsed); Anthroposophist
66
Germinal
1855
Emile Zola
Catholic
67
Call It Sleep
1934
Henry Roth
Jewish
68
U.S.A. Trilogy
1930-38
John Dos Passos
Catholic
69
Hunger
1890
Knut Hamsun

70
Berlin Alexanderplatz
1929
Alfred Doblin
Catholic
71
Cities of Salt
1984-89
'Abd al-Rahman Munif

72
The Death of Artemio Cruz
1962
Carlos Fuentes
Catholic
73
A Farewell to Arms
1929
Ernest Hemingway
Catholic
74
Brideshead Revisited
1945
Evelyn Waugh
Catholic
75
The Last Chronicle of Barset
1866-67
Anthony Trollope
Anglican
76
The Pickwick Papers
1836-67
Charles Dickens
Anglican
77
Robinson Crusoe
1719
Daniel Defoe
Protestant Dissenter (Presbyterian)
78
The Sorrows of Young Werther
1774
Johann Wolfgang von Goethe
Deist
79
Candide
1759
Voltaire
raised in Jansenism; later Deist
80
Native Son
1940
Richard Wright
Seventh-day Adventist; Communist
81
Under the Volcano
1947
Malcolm Lowry
Methodist; Anglican; agnostic
82
Oblomov
1859
Ivan Goncharov

83
Their Eyes Were Watching God
1937
Zora Neale Hurston

84
Waverley
1814
Sir Walter Scott
Anglican
85
Snow Country
1937, 1948
Kawabata Yasunari

86
Nineteen Eighty-Four
1949
George Orwell
Anglican
87
The Betrothed
1827, 1840
Alessandro Manzoni
Catholic
88
The Last of the Mohicans
1826
James Fenimore Cooper
Episcopalian
89
Uncle Tom's Cabin
1852
Harriet Beecher Stowe
Episcopalian; Congregationalist
90
Les Miserables
1862
Victor Hugo
Catholic
91
On the Road
1957
Jack Kerouac
Catholic; Buddhism
92
Frankenstein
1818
Mary Shelley

93
The Leopard
1958
Giuseppe Tomasi di Lampedusa
Catholic
94
The Catcher in the Rye
1951
J.D. Salinger
Jewish Catholic; Scientologist
95
The Woman in White
1860
Wilkie Collins

96
The Good Soldier Svejk
1921-23
Jaroslav Hasek
Catholic
97
Dracula
1897
Bram Stoker
Church of Ireland (Anglican)
98
The Three Musketeers
1844
Alexandre Dumas
agnostic; Catholic
99
The Hound of Baskervilles
1902
Arthur Conan Doyle
Catholic; Spiritualist
100
Gone with the Wind
1936
Margaret Mitchell
Catholic

Friday, June 4, 2010

Herta Müller

باغیانہ افکار اور آزادی اظہار کی ترجمان
نوبل انعام برائے ادب 2009ئ حاصل کرنے والی جرمن ادیبہ ہیرٹا مُلر

سماجی پابندیوں اور  معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے ساتھ دلفریب اور خوبصورت رنگوں سے آراستہ شاعری رومانوی نږاد جرمن ادیبہ ہیرٹا مُلر کے فن کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ سنگین حالات اور خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی نے ان کی تخلیقات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ زبان کی سادگی، دلکش منظر نگاری اور باغیانہ افکار کی ترجمانی ان کو موجودہ دور کے دیگر ادیبوں سے ممتاز بنادیتی ہے۔

 ادب کے لئے بے پناہ خدمات کے اعتراف میںسال 2009ئ  کے  نوبل انعام  جرمن شاعرہ اور ادیبہ ہیرٹا مُلر کو دیا گیا ہے۔گزشتہ سال فرانسیسی ادیب لی کلیزیو کو نوبل پرائز دیا گیا تھا جبکہ 2007ئ میں ادب کا نوبل پرائز برطانوی ادیب ڈورِس لیسنگ نے حاصل کیا تھا۔نوبل انعامات کا سلسلہ سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ یہ اعزاز سویڈن سے تعلق رکھنے والے انیسوی صدی کے متنازعہ سائنس دان اور بارود کے موجد الفریڈ نوبل کی آخری خواہش کے طور پر ادب، امن اور سائنس کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔

ہیرٹا مُلر  کا تعلق بنیادی طور پر رومانیہ کی جرمن اقلیتی آبادی والے قصبے نٹسکی ڈورف سے ہے۔ انہوں نے   17 اگست 1953ئ کو رومانیہ کے اس قصبے  کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے۔ ان کے والد کھیتی باڑی کے پیشے سے وابستہ تھے جبکہ ان کے دادا کا شمار امیر اور معتبر کسانوں میں کیا جاتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے  کم عمری میں اپنی والدہ کے ساتھ سابقہ سویت یونین کی ریاست یوکرین کے جبری مشقت کے کیمپس میں بھی اپنی زندگی کے پانچ سال گزارے۔  انہوں نے رومانیہ میں ٹمیسورا یونیورسٹی سے جرمن زبان اور رومانین ادب کی تعلیم حاصل کی تھی۔

ہیرٹا ملر نے 1976ئ میں ایک انجینئرنگ فیکٹری میں بطور مترجم ملازمت کا آغاز کیا تھا ۔لیکن 1979ئ میں چاشسکو سرکار کی خفیہ پولیس سے تعاون نہ کرنے کی پاداش میں انہیں نوکری سے برطرف کر  دیا گیا جس کے بعد وہ جرمن زبان کی تدریس سے منسلک ہو گئیں۔ اسی دوران انہوں نے لکھنے لکھانے کا آغاز کیا۔ 80ئ کے آغاز میں انہوں نے ادب کے میدان میں باقاعدہ قدم رکھا  اور مختصر کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا ۔ ابتدا میں مُلر کی تحریروں کو اسمگل کر کے جرمنی میں بیچا جاتا تھا۔ ان کی پہلی کتاب 1982ئ میں شائع ہوئی جسے رومانیہ میں سنسر کر دیا گیا۔ افسانوں کے اس مجموعے میں  انہوں نے جرمن زبان بولنے والے اقلیتی بچوں کی سوچ کے زاویوں کا احاطہ کیا تھا۔ بعدازاں ان کا ناول  ٴٴدی لینڈ آف گرین پلمزٴ  منظر عام پر آیا۔ اس ناول میں انہوں نے لکھاریوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو  تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ جبکہ  ناول کا مرکزی کردار وہ خود ہی تھیں اور انہوں نے ذاتی تجربات کو ناول کی شکل میں پیش کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے بے جا پابندیوں اور حکومتی دبائو کے پیش نظر  وہ 1987ئ میں اپنے شوہر رچرڈ واگنر کے ہمراہ جرمنی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ رچرڑ وانگنر کا شمار بھی معروف ناول نگاروں میں کیا جاتا ہے۔ ہیرٹا ملر  دیوارِ برلن کے انہدام سے دو سال قبل اپنے شوہر کے ہمراہ برلن آئیں اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔  ایک انٹرویو میں ہیرٹا ملر نے کہا تھا کہ انہوں نے رومانیہ میں رہتے ہوئے  بے حد مشکل حالات میں جرمن زبان سیکھی اور پھر  شعر اور نثر لکھنے کا آغاز کیا۔

ہیرٹا ملر نے  جرمنی میں قیام کے دوران مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔ عرصہ دراز تک ہیرٹا ملر عوامی سطح پر نظروں سے اوجھل رہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر پر ان کو مقبولیت نوے کی دہائی میں حاصل ہوئی۔ ان  کے فن کی پذیرائی 1997ئ میں منظر عام پر آنے والے ان کے ناول ٴدی اپا¶نٹمنٹٴ سے شروع ہوئی۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والے نئے ناول  ٴایٹم شائوکل ٴ یعنی ٴسانس کا جھولاٴمیں ہیرٹا ملر نے رومانیہ کے جلاوطن جرمن نږاد شہری کی کہانی بیان کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمن شہریوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی انہوں نے نہایت خوبصورتی سے تصویر کشی کی ہے۔ اس ناول کا مرکزی خیال شاعر اوسکر پاسٹئر کے سرگزشت سے لیا گیا جبکہ ملر کی والدہ نے بھی اسی قسم کے سنگین حالات کا سامنا کیا تھا۔

تنقید نگار اور ادیب ڈینس شیک  ایک بار برلن میں ہیرٹا ملر کے گھرگئے تو انہوں نے ہیرٹا مُلر کو لکھنے کی میز کے سامنے  بیٹھے دیکھا  جن  کے اردگرد اخباری تراشوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ تمام تراشے زبان کی ساخت جاننے اور لکھنے کے عمل کے دوران مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈینس شیک کا کہنا تھا کہ ٴٴمیں نے اس موقع پر محسوس کیا کہ میں کسی شاعر کی تجربہ گاہ میں داخل ہوگیا ہوںٴٴ۔

 نوبل اکیڈمی کی جانب سے  2009ئ میں ہیرٹا مُلر کو ادب کے لئے ان کے خدمات کے عوض نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ ان  کی تحریروں میں مختصر جملے اور انتہائی سادہ زبان کا استعمال انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے نوبل جیوری نے ان کے فن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٴٴ بے ساختہ نثر اور شاعری پر خصوصی توجہ ہیرٹا ملر کے فن کی انفرادیت ہیں اور اِس سے اُن کے ادب کو جلا ملی ہے۔ٴٴ  ہیرٹا کو نوبل اعزاز کے ساتھ ساتھ چودہ لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ایک کروڑ سویڈش کرونر کی رقم بھی بطور انعام ادا کی جائے گی۔ ان کا اپنی تحریروں میں نکولائی چاشسکو کے دور میں مشکل حالات کی تصویر کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں ۔ 

ہیرٹا ملر کا کہنا ہے کہ ادب کا نوبل انعام ملنے کی خبر سن کر وہ ٴٴدنگ رہ گئیں اور انہیں اس کا یقین نہیں آیا۔ ٴٴ سویڈش اکیڈمی نے نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے ان کی تحریروں کے بارے میں کہا کہ ٴٴان میں بے دخل کیے گئے لوگوں کی حالت زار بیان کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان کی تحریروں میں شاعری کی یکسوئی اور نثر کی بے تکلفی پائی جاتی ہے۔ ٴٴ   ہیرٹا ملر نے جرمن اور رومانین دونوں زبانوں میں ادب تخلیق کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ٴٴیہ محض دو زبانیں ہی نہیں بلکہ دو الگ الگ جہان ہیں۔مثال کے طور پر رومانیہ میں ٹوٹتے ستارے کو موت کی علامت تصور کیا جاتا ہے جبکہ جرمنی میں لوگ ٹوٹا ہوا ستارہ دیکھ کر کسی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ٴٴ وہ رومانین علاقائی موسیقی میں بھی گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں جرمن اور رومانین دونوں تہذیبوں کا رنگ نمایاں جھلکتا ہے۔ ان کی تحریروں میں ان کے شوہر رچرڈ واگنر کی شخصیت بھی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں۔ وہ دونوں رومانیہ میں پلے بڑھے، یونیورسٹی میں رومانین ادب کے طالب علم رہے اور بعدازاں دونوں نے ہی جرمن زبان کے استاد کے طور پر ملازمت بھی کی۔ آزادی رائے کے لئے  ملر اور ان کے ادب  سے وابستہ شوہر کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے  اپنے ناولوں میں بے باک انداز میں اپنے حقوق کے حصول اور آزادی رائے کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ حکومتی دبائو کے باوجود انہوں نے حقیقت کو افسانوی انداز میں بیان کر کے اپنا پیغام دنیا بھر میں پہنچایا ہے۔ ان کے ناولوں کے بیشتر کردار حقیقی زندگیوں سے تراشے ہوتے ہیں۔





Wednesday, June 2, 2010

Salvador Dali

علامتی فن مصوری کا منفرد انداز

فرانس کے عظیم مصور اور مجسمہ ساز سلواڈور ڈالی کی داستان حیات

سخت گرمیوں کے دن تھے اور ایک نوجوان فنکار اپنے کمرے میں رنگوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اس کی بیوی شاید گھر پر نہیں تھی۔ دوپہر کا کھانا اس کے سامنے پڑا ہوا تھا جو اس نے آدھا کھانے کے بعد ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ پنیر گرمی کی شدت سے پگھل پگھل کر نیچے کر رہی ہے۔ اس منظر نے اس کے ذہن میں ایک کہرام پیدا کر دیا۔ اس خیال کو اس نے کینویس پر مصور کرنے میں ذرا تامل نہ کیا۔ وہ اس وقت ایک لینڈ سکیپ بنا رہا تھا۔ چٹانوں اور درختوں کے پس منظر میں اس نے برش چلانا شروع کر دیا۔ اور پگھتی ہوئی گھڑیاں بنا ڈالی۔ اس نوجوان مصور کو آج آرٹ میں سکواڈور ڈالی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی یہ پینٹنگ ٴدی پرزسٹنس آف میمریٴ کے نام سے مشہور ہے۔ سلواڈور ڈالی ناصرف ایک مصور تھا بلکہ اس نے آرٹ کے دیگر شعبوں فلم، تھیٹر، فوٹوگرافی اور ڈیزائننگ میں بھی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

سلواڈور ڈالی 11مئی 1904ئ کو سپین میں فرانسیسی سرحد کے قریب واقع قصبے فگیورز میں پیدا ہوا۔ اس کے والد درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل تھے۔ سلواڈور ڈالی کی پیدائش سے ایک سال قبل اس کے ایک بھائی کا دو برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا، اس کا نام بھی سلوڈور ڈالی تھا۔ اس لئے اس وکیل کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کا نام بھی سلواڈور ڈالی رکھا گیا۔ سلواڈور جب پانچ برس کی عمر کا ہوا تو وہ اپنے والدین کے ہمراہ اپنے بھائی کی قبر پر گیا جہاں اس کے والدین نے اسے بتایا کہ وہ اس قبر میں لیٹے ہوئے بچے کا دوسرا جنم ہے۔   سلواڈور ڈالی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ٴٴہم دونوں بھائی پانی کے دوقطروں کی مانند تھے لیکن ہمارا عکس جدا جدا تھا۔ وہ شاید میری ذات کا پہلا وجود تھاٴٴ۔ سلواڈور ڈا لی نے ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈرائینگ سکول میں تربیت بھی حاصل کی۔ 1917ئ میں پہلی بار اس کے والد نے شہر کے میونسپل تھیٹر میں سلواڈور ڈالی کی چارکول سے بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا۔  سلواڈور ڈالی کی عمر سولہ برس ہوئی تو اس کی والدہ کینسر کے مرض سے انتقال کر گئیں۔ اس کی والدہ کی موت نے اس پر ذہن پر خاصا گہرا اثر ڈالا۔ اس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ

 ٴٴیہ میری زندگی کا سب سے المناک لمحہ تھا۔ میں ان کی پوجا کیا کرتا تھا۔ ان کی موت کی صورت میں مجھے جو نقصان پہنچا ہے میں اس کی تلافی نہیں کرسکا۔ٴٴ

سلواڈور ڈالی نے 1922ئ میں  میڈرڈ کا رخ کیا اور سکول آف فائن آرٹس میں داخلہ لیا۔ اس سکول میں اس نے اپنے ظاہری حالت اور ملبوسات کے انتخاب کے باعث جلد ہی شہرت اختیار کر لی۔ لیکن اس کو صحیح معنوں میں شہرت ٴکیوب ازمٴ تحریک میں شامل ہونے سے ملی۔ فرانس سے جاری ہونے والی یہ تحریک  ابھی تک یورپ میں پروان نہیں چڑھ سکی تھی اور مڈرڈ میں اس تحریک سے کوئی بھی منسلک نہیں تھا۔ابتدائی دور میں سلواڈور ڈالی بھی اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتا تھا۔ 1924ئ تک وہ عوام کی توجہ کا مرکز نہیں بنا ہوا تھا جب اس نے ایک کتاب کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں۔ یہ کتاب اس کے ایک ہم جماعت شاعر دوست کی تھی جس کا اٹائٹل اس نے تخلیق کیا تھا۔  ٴکیوب ازمٴ کے علاوہ سلواڈور ڈالی نے ٴڈاڈا ازمٴ کی تحریک میں بھی کچھ تجربات کئے۔ ہاسٹل میں قیام کے دوران اس کی دوستی کئی پیپن بیلو، لیوس بنیوئل جیسے مصوروں اور فیڈریکو گارشیا لورکا کے ساتھ ہو گئی۔ 1926ئ میں اس سالانہ امتحانات سے قبل اسے اکیڈمی سے نکال دیا گیا کیونکہ اس نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس اکیڈمی میں کوئی بھی استاد کے پایہ کو چھو نہیں سکتا۔ اسی برس اس نے اپنی مشہور پینٹنگ ٴباسکٹ آف بریڈٴ کو کینوس پر پینٹ کیا۔ اکیڈمی سے خارج ہونے کے بعد اس نوجوان مصور پیرس کا رخ اختیار کیا جہاں اس نے پابلو پکاسو کے ساتھ ملاقات کی۔ حیرت کی بات یہ کہ پکاسو سے ملاقات سے پہلے ہی اس کی شہرت اس تک پہنچ چکی تھی۔ پکاسو نے ڈالی کے فن کو بے حد سراہا اور اس نے منفرد تخلیقی انداز کو پسند کیا۔ سلواڈور ڈالی کی بنائی ہوئی پینٹنگ میں ہمیں پابلو پکاسو کی بھی جھلک نظر آتی ہے۔ باپلو پکاسو کے علاوہ سلواڈور ڈالی رافیل، بروزینو، ویرمیز  اور فرانسسکو زربرن کے فن سے بھی بے حد متاثر تھا۔ اس نے اپنے ماڈرن اور کلاسیکی دونوں تکنیکوں کو بروئے کار لایا۔اس دور میں اس کی مصوری کی نمائشوں کے بعد فن مصوری کے حوالے سے نئے بحث و مباحثوں کا آغاز ہوجاتا تھا۔ اسی دور میں اس نے اپنی مونچھوں کا انداز میں تبدیل کر لیا۔ جو اس کا ٹریڈ مارک بن گیا اور بعدازاں یہ انداز اس نے ساری عمر تبدیل نہیں کیا۔


 سلواڈور ڈالی نے 1929ئ میں ٴسریلسٹٴ تحریک سے وابستہ فلم ڈائریکٹر لیوس بنوئل کے ساتھ مل کے ایک شارٹ فلم بنائی۔ جس میں اس کا بنیادی کام فلم کی کہانی لکھنا تھا۔ ڈالی نے فلم میں اداکاری کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن وہ اداکاری نہیں کر سکا۔ اگست1929ئ میں ا سکی ملاقات علینا ایوانووا دیاکونوا کے ساتھ ہوئی۔ اس کا تعلق روس سے تھا اور اس سے عمر میں گیا سال بڑی تھی۔ علیناکی سریلسٹ شاعر پال الورڈ کے ساتھ شادی ہو چکی تھی۔علینا گالا کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔انہوں نے 1929ئ سے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا اور1934ئ میں شادی کر لی تھی۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ڈالی نے باقاعدہ طور پر سریلسٹ تحریک میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ اس عرصہ میں سریلسٹ تحریک سے منسلک بہت سے فنکاروں نے بائین بازو کی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سیاست کا تعلق آرٹ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سریلسٹ تحریک کے روح رواں آندرے بریٹن نے ایک مرتبہ سلواڈور پر اعتراض کیا اور کہا کہ تمہارا رویہ ہٹلر کے اصولوں کی پیروی کر رہا ہے جس پر سلواڈور ڈالی کا کہنا تھا کہ ٴٴمیں ایسا جان بوجھ کر کرتا ہوں اور نہ انجانے میںٴٴ اس کے اس رویے پر اس کے خلاف احتجاج کیا گیا اور اسے سریلسٹ تحریک سے خارج کر دیا گیا۔ سلواڈور ڈالی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ٴٴمیں بذات خود سریل ازم ٴ ہوںٴٴ۔ 1940ئ میں یورپ میں جب دوسری جنگ عظیم کے باعث حالات کشیدہ ہوئے تو سلواڈور ڈالی اور گالا نے امریکہ کا رخ اختیار کر لیا۔ امریکہ میں انہوں نے آٹھ برس قیام کیا۔ اس قیام کے دوران ڈالی نے کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھی۔



سلواڈور ڈالی کے فن کا اہم عنصر علامتیں ہیں۔ اس نے اپنی تصاویر میں گھڑیوں اور ہاتھیوں کو منفرد انداز میں علامتی طور پر پینٹ کیا ہے۔ اس کا  علامتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ ٴٴمیں ایسی تصاریر مصور کرنا چاہتا ہوں جسے دیکھ کر خوشی سے میں مر جائوں۔ میں ایسی چیزیں بنا رہا ہوں جنہوں نے مجھے متاثر کیا اور جو میرے جذبات کے ساتھ وابسطہ ہیں اور میں انہیں ایمانداری کے ساتھ کینوس پر ڈھالنا چاہتا ہوں۔ٴٴ اس کے علاوہ اس نے انڈے، چیونٹی اور کیڑے مکوڑوں کو بھی مختلف جذبات کی علامت کے طور پر بھی پیش کیا۔


سلواڈور ڈالی ایک ورسٹائل فنکار تھا۔ اس نے خود مصوری تک محدود نہیں رکھا۔ اس نے مجمہ سازی بھی کی اور اس کے ساتھ ساتھ تھیٹر ، فیشن اور فوٹوگرافی کے شعبہ میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ 1941ئ سے1970ئ کے درمیان اس نے متعدد زیورات کے ڈیزائن بھی تیار کئے جن میں سب سے معروف ٴدی رائل ہارٹٴ ہوا۔ جس میں اس نے 46 لعل،42ہیرے اور4یاقوتوں کا استعمال کیا۔ تھیٹر کے حوالے سے اس کا اہم کارنامہ 1927ئ میں تھیٹر ڈرامہ ٴمریانہ پنیڈاٴ کے لئے منظرنامہ کی تیاری تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اوپرہ ٴتنہاشرٴ ، ٴلیبیرتھٴ اور ٴدی تھری کارنرڈ ہیٹٴ کے لئے بھی ڈیزائن تیار کئے۔ سلواڈور ڈالی کو فلموں میں بھی خاص دلچسپی تھی اور وہ نوجوانی میں ہر اتوار کو فلم دیکھنے ضرور جایا کرتا تھا۔ اس دور میں خاموش فلموں عوام کی توجہ کا مرکز تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ سینما کے حوالے سے دو نظریات پائیے جاتے ہیں ایک یہ کہ کیمرہ کی آنکھ کی مدد سے جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ اور دوسرا وہ انداز جو تصاویر اور منظر میں ہم دیکھتے ہیں جس میں ہمیں تخلیقی کام نظر آتا ہے۔ ڈالی فلموں میں کیمرے کے سامنے اور کیمرے کے پیچھے دونوں حوالوں سے اپنے فن کا اظہار کرتا تھا۔ اس نے معروف فلم میکر الفریڈ ہچکاک کے ساتھ بھی کام کیا۔ ہچکاک کی فلم ٴسپل بائونڈٴ کا مرکزی خیال خواب تھے۔ اس لئے اس نے سلواڈور ڈالی کی خدمات حاصل کی۔ اس نے ایسی تصاویر تیار کیں جو بالکل خواب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے ڈزنی پروڈکشنز کے ساتھ کارٹون فلمیں بھی بنائیں۔

1980ئ کی دہائی میں سلواڈور ڈالی کی صحت بری طرح گرنا شروع ہو گئی اور دوسری جانب اس کی بیوی گالا پہلے ہی شدید بیمار تھی۔1982ئ میں گالا کی موت کے بعد سلواڈور ڈالی کے لئے زندگی کے کٹھن دن شروع ہو گئے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دوران اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ 1984ئ میں اس کے کمرے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں اس موت واقع ہوگئی۔ بعض افراد نے اسے خودکشی بھی قرار دیا۔ لیکن دوستوں کی بروقت آمد سے ان کی جان بچالی گئی۔نومبر1988ئ میں اس کو دل کے عارضے کے باعث ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔ لیکن دو ماہ بعد ہی یہ عظیم فنکار 23جنوری1989ئ کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ لیکن اس کا فن آج بھی زندہ ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلاتا رہے گا۔



Enigmas! by Pablo Neruda



Pablo Neruda (July 12, 1904 – September 23, 1973) was the pen name and, later, legal name of the Chilean writer and politician Neftalí Ricardo Reyes Basoalto. With his works translated into many languages, Pablo Neruda is considered one of the greatest and most influential poets of the 20th century. He chose his pen name in honour of the famous Czech poet Jan Neruda.
Neruda was accomplished in a variety of styles ranging from erotically charged love poems like his collection Twenty Poems of Love and a Song of Despair, surrealist poems, historical epics, and overtly political manifestos. In 1971 Neruda won the Nobel Prize for Literature. Colombian novelist Gabriel García Márquez once called him "the greatest poet of the 20th century in any language

He is my favorite poet. Enjoy his beautiful piece of poetry!



Enigmas


You've asked me what the lobster is weaving there with
his golden feet?
I reply, the ocean knows this.
You say, what is the ascidia waiting for in its transparent
bell? What is it waiting for?
I tell you it is waiting for time, like you.
You ask me whom the Macrocystis alga hugs in its arms?
Study, study it, at a certain hour, in a certain sea I know.
You question me about the wicked tusk of the narwhal,
and I reply by describing
how the sea unicorn with the harpoon in it dies.
You enquire about the kingfisher's feathers,
which tremble in the pure springs of the southern tides?
Or you've found in the cards a new question touching on
the crystal architecture
of the sea anemone, and you'll deal that to me now?
You want to understand the electric nature of the ocean
spines?
The armored stalactite that breaks as it walks?
The hook of the angler fish, the music stretched out
in the deep places like a thread in the water?

I want to tell you the ocean knows this, that life in its
jewel boxes
is endless as the sand, impossible to count, pure,
and among the blood-colored grapes time has made the
petal
hard and shiny, made the jellyfish full of light
and untied its knot, letting its musical threads fall
from a horn of plenty made of infinite mother-of-pearl.

I am nothing but the empty net which has gone on ahead
of human eyes, dead in those darknesses,
of fingers accustomed to the triangle, longitudes
on the timid globe of an orange.

I walked around as you do, investigating
the endless star,
and in my net, during the night, I woke up naked,
the only thing caught, a fish trapped inside the wind.



(Translated by Robert Bly)



Tuesday, June 1, 2010

Bhati Gate, Lahore

ٴلاہور کا چیلسیٴ


کبھی لاہور کے گلی کوچوں اور راہ گزاروں سے خوشبوئوں کے قافلے اور یادوں کی باراتیں گزرا کرتی تھیں لیکن اب ایک ہڑبونگ ہے ۔ بے سمت اور بے یقین ہجوم جس نے یادوں اور خوشبوئوں کو اپنے قدموں تلے روند دیا ۔لاہور کے آسمان پر ستارے دکھائی نہیں دیتے ۔چاند بھی پیلا ہو تا جا رہا ہے اور باغوں میں پھول اور پتے زرد پڑ چکے ہیں ۔آج سے محض تین عشرے پہلے کے لاہور اور آج کے لاہور میں زمیں آسمان کا فرق ہے ۔اس خطہ زمیں پر چہار جانب سے یلغار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی قدیم تہذیب وثقافت کو تاخت و تاراج کیا جارہا ہے ۔لاہور کی ثقافتی حیثیت یہاں پر برپا کی جانے والی ادبی اور ثقافتی تقریبات کی مرہون منت ہے لیکن وہ بھی اب خال خال اور معدوم ہوتی جارہی ہیں یا ان کی شکل اب کچھ تجارتی اور لاہور کی اصل شناخت کے برعکس ہے۔ اس حوالے سے شہر قدیم کا بھاٹی دروازہ روز اول سے ہی علمی و ادبی اور فنون لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ بھاٹی دروازے کے اندر داخل ہوں تو چہار جانب آپ کو لاہور کی ثقافت اور قدیم تہذیب کی چند جھلکیاں آج بھی نظر آتی ہیں ۔بل کھاتی نیم روشن گلیاں، شکستہ جھروکے اور پرانی وضع قطع کے دروازے اپنے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ بھاٹی دروازے کو فنون لطیفہ اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ حکیم احمد شجاع نے بھاٹی دروازے کے علاقے میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٴلاہور کا چیلسیٴ قرار دیا ہے۔

بھاٹی دروازہ شہر قدیم کے جنوب کی جانب وا قع ہے۔ اس دروازے کے دائیں جانب موری دروازہ اور بائیں جانب ٹکسالی دروازہ ہے اس کے سامنے لوئر مال روڈ ہے۔ بھاٹی دروازے کے دائیں جانب تانگوں کا اڈہ اور خالی میدان تھا جہاں سرکس کا میدان سجتا تھا۔ جبکہ بائیں طرف مزار و مسجد غلام رسول ہے یہ بزرگٴٴبلیوں والی سرکارٴ کے نام سے مشہور ہیں۔ دروازے کے بالکل ساتھ بائیں جانب ایک بڑا درخت ہے جس کی شاخوں نے جھک کر دروازے کا منظر چھپایا ہوا ہے۔

بھاٹی دروازے کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں تیسری صدی عیسوی کے وسط میں لاہور کے علاقے کو فتح کرنے والے راجہ کیرپال رائو کا حوالے سے ملتا ہے ،جو بھٹنیر کا راجہ تھا۔ شہر بھٹنیر راجہ کیر پال رائو کے جد امجد راجہ بھاٹی رائو نے آباد کیا اوراس نے لاہور میں بھٹنیر کے نام سے ایک قلعہ بھی تعمیر کیا۔اس راجہ کی اولاد ٴبھاٹیٴ اور ٴبھاٹیہٴ کہلائی۔ حکیم احمد شجاع مرحوم اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسی ٴٴمیں بھاٹی دروازے کی وجہ تسمیہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴبھاٹی دروازے کا اصل نام بھٹی دروازہ اور یہی وہ مقام تھا جہاں مغلوں کی سلطنت سے پہلے بھٹی قوم کے جنگجودلیروں نے ملتان کے بعد لاہور آکر پڑائو ڈالا تھا۔ امتداد زمانہ بگڑتے بگڑتے ٴٴبھٹیٴٴ ٴٴبھاٹی دروازہٴٴ ہو گیاٴٴ

گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت داتا گنج بخش غزنی سے تبلیغ اسلام کی غرض سے لاہور تشریف لائے اور انہوں نے بھاٹی دروازے کے باہر قیام کیا۔ بھاٹی دروازے کے بیرونی جانب سرکلر روڈ پر حضرت داتا گنج بخش ہجویری کا مزار ہے اور اس کے قریب ہی کربلا گامے شاہ ہے۔ ملک ایاز کے زمانے میں یہاں بھٹ قبیلے کے لوگوں کو رہائش اختیار کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی اور انہوں نے صدیوں اس دروازے کے اندر قیام کیا اور ان کی مناسبت سے ہی دروازے کا نام بھاٹی دروازہ مشہور ہو گیا۔ بھٹ قبیلے کے لوگ تالا سازی کے پیشہ سے منسلک رہے۔ غزنوی عہد میں شہر قدیم یہاں اختتام پذیر ہوتا تھا اور اکبر کے عہد میں جب شہر نو گزروں میں تقسیم کیا گیا تو تلواڑہ گزر اور مبارا خان گزر بھاٹی دروازے کے باہم ملتی تھی۔

بیرون بھاٹی دروازے کھلے احاطے میں روایتی تھیٹر کمپنیاں اور سرکس کا میدان سجتا تھا۔ قیاس ہے کہ حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے موقع پر اسی قسم کی تفریحات معمول کا حصہ ہوں تاہم 1930ئ کے اواخر میں جب فلموں کا رواج پروان چڑھا تو یہ تھیٹر کمپنیاں رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھونے لگیں۔ اسی دور میں یہاں لاہور کا سب سے پہلا سینما گھر قائم ہوا جہاں خاموش فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ بھاٹی دروازے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لاہور کی فلم انڈسٹری کی بنیاد یہیں رکھی گئی تھی۔ محقق اقبال قیصر کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد بار بیرون بھاٹی دروازے میں پیش کئے جانے والے تھیٹر میں پرفارم کیا تھا۔ آج بیرون بھاٹی دروازے مدرسہ جامعہ حنفیہ کی کثیر المنزلہ عمارت اور دوکانیں قائم ہیں۔ یہ دوکانیں نواز شریف کے دور حکومت میں داتا دربار کمپلکس کی تعمیر کے وقت یہاں منتقل کی گئی تھیں۔

بھاٹی دروازے کا علاقہ روز اول سے ہی علم و ادب کا مرکز اور تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدیم ٴاونچی مسجدٴ بھاٹی دروازے کے اندر واقع ہے جسے مقامی زبان میں ٴاُچی مسجدٴ کہا جاتا ہے ۔ انیس ناگی ٴبلھے شاہ، فن شخصیتٴ میں لکھتے ہیں کہ اس مسجد کی امامت  مرشد شاہ عنایت قادری کرتے تھے۔ مسجد کے سامنے ہی شاہ عنایت قادری کا ڈیرہ تھا ۔ بلھے شاہ ان کی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے اور ان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر سارنگی پر اپنی کافی گانے لگے تھے۔ مسجد کی سیڑھیوں پر بلھے شاہ کو گاتا دیکھ کر لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ان کی پٹائی کر دی۔ بعدازاں وہ شاہ عنایت قادری کی مریدی میں آگئے اور خاصا عرصہ ان کی صحبت میں رہے۔ یہ اونچی مسجد کب تعمیر ہوئی اور کس نے اسے تعمیر کروایا اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

شہر قدیم کے دیگر دروازوں کی طرح بھاٹی دروازے میں بھی سکھ دور حکومت کے آخری دو عشروں میں اس علاقے میں بہت ساری حویلیاں اور عمارات تعمیر کی گئیں جن میں بیشتر آج موجود نہیں ہیں۔

فن تعمیر کے حوالے سے بھاٹی ، شیرانوالہ اور کشمیری دروازہ روکار کے میں ایک جیسے ہیں، البتہ سطحی نقشے کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ شیرانوالہ اور کشمیری دروازے سے مختلف ہے۔ غافر شہزاد کے مطابق ٴٴبھاٹی دروازہ اپنی ظاہری سطح پر یوں تو گوتھک اندازِ تعمیر کی دوہری کمان پر مشتمل ہے مگر دروازے کے دائیں اور بائیں دونوں جانب دو لمبی لمبی بیرکیں ہیں جن کے سامنے برآمدے بنے ہوئے ہیں۔ ان بیروکوں کی بیرونی دیواریں شہر کی فصیل کی جگہ لئے ہوئے ہیں۔ دائیں اور بائیں دونوں جانب دو دو دروازے ڈیوڑھی میں کھلتے ہیں۔ لمبائی کے اعتبار سے بھاٹی دروازہ دیگر دروازوں کی عمارات سے طویل ترین ہے۔ اس کی لمبائی 187فٹ تک پہنچتی ہے۔ دروازے کی بڑی ڈاٹ کو دو پلر سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ ہر پلر پر اوپر نیچے مستطیل چوکھٹے بنے ہوئے ہیں۔ ڈیوڑھی کی چھت بھی گوتھک انداز کی ڈاٹ سے بنتی ہے۔ ڈیوڑھی کا حصہ دائیں اور بائیں ملحقہ بیرک کی عمارت سے خاصا بلند ہے۔ ڈاٹ کے دونوں اطراف بیرونی جانب موغولے بنے ہوئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ٴٴ

اس دروازے کی تعمیر نو بھی انگریز عہد میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کے وقت نہ تو عسکری ضرورت کو اس طرح ترجیح دی گئی جیسے سکھوں یا مغلوں کے زمانے میں تھی اور نہ ہی اصل دروازوں کی جمالیات کے تناسب شکل کو بحال رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس عمارت میں بیرک اور اور برآمدہ یک منزلہ ہیں جبکہ اصل دروازے میں بالائی منزل پر داروغوں کی رہائش کیلئے کمرے تعمیر تھے جن میں آجکل پولیس کے ملازم آباد ہیں۔ بھاٹی بازار، بازار حکیماں اور ٹبی بازار سے ہوتا ہوا شاہی محلہ تک جاتا ہے جہاں سے ٹکسالی دروازے سے سڑک آکر مل جاتی ہے۔

بھاٹی دروازہ کوچہ فقیر خانہ اور فقیر خانہ میوزیم کے حوالے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ فقیر خاندان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد سے معزز و مکرم چلا آرہا ہے۔ فقیر خاندان کی تین بھائی فقیر عزیز الدین، فقیر نورالدین اور امام الدین رنجیت سنگھ کے دربار میں خاص مرتبہ کے حامل تھے۔ اس خاندان کا مورث اعلیٰ غلام شاہ تھا۔1799ئ میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں اقتدار سنبھالا تو فقیر خاندان نے اس کے دربار میں اطاعت کا حلف اٹھایا۔ عرصہ دراز تک یہ خاندان شاہی دربار کا حصہ بنا رہا اور اس عرصہ کے دوران انہیں رنجیت سنگھ اور ملکہ وکٹوریا کی جانب سے بے شمار انعام واکرام سے نوازا گیا۔ آج بھی فقیر خاندان اندرون بھاٹی دروازے مقیم ہے اور فقیر خاندان کی تاریخی حویلی کو عجائب گھر کی شکل دی گئی جو جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا نجی نوعیت کا عجائب گھر ہے۔ اس عجائب گھر میں سکھ اور انگریز عہد کے نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ فقیر خانہ سے ذرا آگے جائیں تو سید مراتب علی شاہ کی اہلیہ سیدہ مبارک بیگم کا امام باڑہ ہے اور ساتھ ہی ان کے والد فقیر سید افتخار الدین کی حویلی ہے۔ اسی حویلی سے ملحق فقیر سید امام الدین کی حویلی ہے جو سکھوں کے زمانے میں قلعہ گوبند گڑھ کے صوبیدار اور شاہی خزانے کے محافظ تھے۔ اسی حویلی کے احاطے میں سید مراتب علی شاہ، سیدہ مبارک علی اور سید غضنفر مہدی کی قبریں ہیں جبکہ حویلی کو آرٹ گیلری اور سکول میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بلا معاوضہ طالب علموں کو نقاشی، خطاطی اور مجسمہ سازی کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کوچے کے بالمقابل حکیم عبداللہ انصاری کی تعمیر کردہ مسجد ہے۔ اسی مسجد کے قیام کے بعد بازار حکیماں آباد ہوا تھا۔اسی بازار میں تھوڑا آگے جا کر دائیں جانب فقیر عزیزالدین کی حویلی ہے جو ان کے بیٹے سید جمال الدین کو ورثے میں ملی تھی اور آج کل اس میں امام بارگاہ واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی کوچہ تحصیل آتا ہے جہاں ایک زمانے میں لاہور کی تحصیلدار کچہری ہوا کرتی تھی۔


بھاٹی دروازہ کبھی علم و ادب کی بڑی ہستیوں کا گہوارہ رہا تھا۔ منشی محبوب عالم نے ٴٴپیسہ اخبارٴٴ یہیں سے نکالا تھا۔ سر عبدلقادر نے اپنا مشہور رسالہ ٴمخزنٴ بھاٹی دروازے میں اپنے قیام کے دوران نکالنا شروع کیا۔ اردو ڈرامے میں نامور شخصیت ڈرامہ نگار آغا حشر کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازہ کے محلہ جلوٹیاں میں علامہ محمد اقبال کی رہائش بھی ہے۔ 

حکیم احمد شجاع اپنی تصنیف ٴٴلاہور کا چیلسیٴٴ میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1900ئ میں جب اقبال ایم اے پاس کرنے کے بعد اورئینٹل کالج لاہور میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے، اور پھر کچھ مدت کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تو وہ بھاٹی دروازے کے اندر اس بالا خانے میں جو محلہ جلوٹیاں کے سامنے گھسیٹو حلوائی کی دوکان کے اوپر واقع ہے رہنے لگے، اقبال 1900ئ سے1905تک اسی مکان میں رہے۔ اس تمام عرصے میں وہ ہر شام کو بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں آتے تھے اور اپنے دوستوں کو اپنا کلام سناتے تھے۔ 1901ئ میں جب سر عبدالقادر نے اپنا مشہور ادبی رسالہ ٴٴمخزنٴ بازار حکیماں سے شائع کیا تو اقبال کی پہلی نیچرل نظم ٴٴہمالہٴٴ ، جسے شیخ عبدالقادر نے اسی بیٹھک میں سنا تھا، مخزن کی پہلی اشاعت میں شائع ہوئی۔ اقبال کی وہ نظمیں جو انہوں نے انگلستان جانے سے پہلے لکھیں اور بعد میں ان کی کتاب ٴٴبانگ دراٴٴ میں شائع ہوئیں اس زمانے میں لکھی گئی تھیں جب وہ بھاٹی دروازے کے اندر رہتے تھے اور اس لئے اس عظمت کی سعادت جو اقبال سے منسوب ہے بھاٹی دروازے کو ہی نصیب ہوئی۔ تحصیل بازار کے ٴٴکوچہ بھابڑوں کی تھڑیاںٴ میں تین بھائی خواجہ کریم بخش، خواجہ امیر بخش اور خواجہ رحیم بخش مقیم تھے۔ بقول حکیم احمد شجاع ان کی قابلیت کا یہ ثبوت تھا کہ آغاز میں علامہ اقبال جب تک ان بزرگوں کو اپنا کلام نہ سنا لیتے تھے کسی مجلس عام میں نہیں پڑھتے تھے۔ ٴٴنالہ یتیمٴٴ، ٴٴہلال عیدٴٴ ،ٴٴشمع و شاعرٴٴ اور ٴٴتصویر دردٴٴ کی سی مشہور نظمیں انہوں نے پہلے انہی بزرگوں کو پڑھ کر سنائی تھیں۔

اندرون بھاٹی دروازہ کوچہ بازار حکیماں میں حکیم شہباز دین کی بیٹھک میں ہر شام لاہور کے معروف ادیب ، شاعر، سیاست دان اور علمائے کرام کی محفل سجتی تھی۔ ان میں مولانا محمد حسن جالندھری، سر عبدالقادر، علامہ اقبال،سر شہاب الدین ، سر محمد شاہ دین، سر محمد شفیع اور فقیر خاندان کے چشم و چراغ فقیر ید افتخار الدین کے نام اہم ہیں۔ اندرون بھاٹی دروازے کے جج بازار میں ٴتاریخ لاہورٴ کے مصنف اور سیشن جج سید محمد لطیف کی حویلی تھی اور اسی نسبت سے یہ جج بازار کہلاتا ہے۔اسی بازار میں سر شہاب الدین کا چھاپہ خانہ اور مکان بھی تھا۔لاہور کی اولین ادبی انجمن جس کے اجلاس میں امین الدین بیرسٹر کے مکان پر ہوتے تھے اندرون بھاٹی دروازے قائم ہوئی۔ اس انجمن کی بنیاد معروف ڈرامہ نویس حکیم احمد شجاع پاشا کے والد اور فلمی ہدایت کار انور کمال پاشا کے دادا نے رکھی۔ مسلم لیگ کا ترجمان ٴٴخالدٴٴ نامی اخبار بھی بھاٹی دروازے سے ہی شائع ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کا مکان بھی کوچہ پیڑنگاں اندرون بھاٹی دروازے میںتھا ، وہ اورئینٹل کالج کے پرنسپل اور کالج میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ کوچہ تحصیل میں رسالہٴٴتہذیب نسواںٴٴ کے مالک سید ممتاز علی اور کچھ دیر کے لئے مولانا حسین آزاد بھی قیام پذیر رہے۔ بارود خانے کے علاقہ میں ٴٴنیرنگ خیالٴٴ کے ایڈیٹر حکیم یوسف حسن بھی مقیم رہے تھے۔ آغا حشر جب اپنی کمپنی کے ساتھ لاہور آتے تھے تو بھاٹی دروازے کے باہر اس مکان میں ٹھہرتے جو ہری کرشن تھیٹر سے ملحق تھا اور یہیں ان کے کھیل دکھائے جاتے تھے۔ کوچہ سبز پیر کی کٹڑی امیر چند میں مولانا ظفر علی خان حیدر آباد دکن سے آپس آنے کے بعد کچھ عرصہ قیام کیا۔ انہوں نے ٴٴپنجاب ریویوٴٴ کے نام سے رسالہ بھی نکالا تھا۔ ساغر صدیقی کی عمر کا بیشتر حصہ بھاٹی دروازے اور اس کے قرب و جوار میں گزرا تھا۔حکیم احمد شجاع مولانا محمد حسین آزاد کے بارے میں ٴلاہور کا چیلسیٴ میں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴاِسے بھاٹی دروازے کی خوش قسمتی کہئے کہ جب 1857ئ کے ہنگامے کے بعد دہلی اجڑی تو دہلی کے سب سے پرانے اردو اخبار کے مالک اور ایڈیٹر مولوی محمد باقر کے بیٹے مولوی محمد حسین آزاد نے انقلابات زمانہ کے گونا گوں مصائب سے تنگ آکر اپنے وطن مالوف سے ہجرت کی اور آخر کار لاہور آکر بھاٹی دروازے کے اندر وہ تحصیل بازار میں گوشہ نشین ہوگئے ۔ٴٴ بعدازاں وہ اکبری دروازے اپنے بیٹے آغاز محمد ابراہیم کے مکان میں منتقل ہوگئے ۔ 1910ئ میں ان کا انتقال ہوا اور وہ بھاٹی دروازے کے قریب کربلا گامے شاہ دفن ہیں۔ معروف افسانہ نگار غلام عباس ، ادبی جریدوں ٴٴادب لطیفٴٴ اور ٴٴسویراٴٴ کے مدیران چودھری برکت علی مرحوم اور نذیر چودھری اور ٴٴنقوشٴٴ کے مدیر محمد طفیل کا مسکن بھی بھاٹی دروازہ تھا۔ بھاٹی دروازے سے تعلق رکھنے والی دیگر نامی گرامی شخصیات میں ابتدائی فلمی دور کے اداکار لقمان، لالہ یعقوب ، عالمی شہرت یافتہ حسن عرف حسا پہلوان اور برصغیر فلم کی فلم انڈسٹری میں کئی دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگانے والے گلوکار محمد رفیع شامل ہیں۔

اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ادبی بیٹھکیں ویران ہوچکی ہیں اور علم و ادب سے وابستہ ہستیوں کی بازگشت ان گلی کوچوں میں رقصاں ہیں۔ لاہورئیے اس کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔لاہور کا تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔یہاں کے روایتی بازار اور گلی کوچے ناکافی شہری سہولتوں کے باعث بے ترتیبی ،بدنظمی اور عدم تحفظ سے دوچار ہیں ۔لاہور کو اپنی شناخت اور معدوم ہوتی ہوئی ثقافت کو بچانے کے لئے ایک ایسے معمار کی ضرورت ہے جو اس بے ترتیب ہوتے ہوئے شہر کو نئے سرے سنوارنے کا عزم رکھتا ہو۔وگرنہ دنیا کی تاریخ کا یہ قدیم ترین شہر اپنے تاریخی ورثوں کو بچا نہیں پائے گا۔اے حمید اپنی تصنیف ٴٴلاہور لاہور اےٴٴ میں بھاٹی دروازے کی دم توڑتی ہوئی ثقافت کے حوالے سے کچھ یوں بیان کرتے ہیںٴٴ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں ، ایک فقیر سردیوں کی راتوں کو اذان کے بعد اپنی پُر سوز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ میں ٹھٹھرتی رات کے سناٹے میں اپنے گھر میں لحاف میں دُبکا اس کی آواز سنا کرتا تھا۔ اس کی آواز دور سے آتی تھی اور سرد رات میں، بھاٹی دروازے کی نیم تاریک خاموشی میں اپنی آواز کی صدائے بازگشت چھوڑتی دور ہوتے ہوئے غائب ہو جایا کرتی تھی۔ وہ نہ کوئی صدا لگاتا تھا نہ کسی سے کچھ مانگتا تھا۔ بس اپنی دل گذاز آواز میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔ آج بھاٹی دروازے کی نہ وہ عظیم شخصیات باقی ہیں جنہوں نے علوم و فنون میں بڑی عظمتوں کے مقام حاصل کئے اور جن کے فیض سے آج علوم و فنون کے دیوان جگمگا رہے ہیں نہ اس فقیر کی صدائے بازگشت باقی ہے جو سردیوں کی ڈھلتی رات کے سناٹے میں بھاٹی دروازے کی نیم تاریک گلیوں میں شاہ حسین کی کافی گاتا گزر جاتا تھا۔
کہے حسین ! فقیر نمانا
دنیا چھوڑ آخر مر جانا
آخر کم اللّہ دے نال
دل لا لیا بے پرواہ دے نال



تصاویر:افضل عباس