Wednesday, May 11, 2011

لاہور کا تعلیمی ورثہ.... گورنمنٹ کالج یونیورسٹی



لاہور کا تعلیمی ورثہ.... گورنمنٹ کالج یونیورسٹی

برصغیر کی تاریخی اہمیت کی حامل قدیم درس گاہ


لاہور کی مال روڈ انگریز عہد میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کا دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ ٹھنڈی سڑک کے نام سے معروف یہ شاہراہ انگریز دور میں برطانوی سرکار کی مرکز نگاہ رہی اور یہیں کئی اہم عمارتوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔مال روڈ کے آخری حصہ جہاں ناصر باغ ہے، اس کے دوسری جانب آپ کو ایک بلند و بالا کلاک ٹاور دکھائی دے گا۔ جو وہاں سے گزرنے والوں کو اپنی جانب نگاہ دوڑانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ بلندو بالا شاندار کلاک ٹاور برصغیر کی تاریخی اہمیت کی حامل درس گاہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے ایک صدی سے زائد کی تاریخ اپنے سینے میں سمو رکھی ہے۔ اس تاریخی دانشگاہ کا شمار خطے کی کی بہترین درس گاہوں میں کیا ہے اور آج اس تاریخی درسگاہ سے وابستہ ہونے کی خواہش ہر طالب علم کے دل میں پائی جاتی ہے۔ اپنی لازوال تاریخی و تعلیمی اہمیت کی بدولت اس کا شمار برصغیر کے ممتاز ترین تعلیمی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ ناصرف اپنی شاندار تعلیمی روایت کی بنا پر بلکہ خوبصورت اور دلکش عمارت کیوجہ سے بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برصغیر کے تعلیمی اداروں میں منفرد مقام کی حامل ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قیام انگریز عہد میں اندرون شہر میں واقع سکھ دور کی تاریخی حویلی دھیان سنگھ خوشحال سنگھ میں عمل میں آیا تھا۔ 1856ءمیں لاہور کے سینڑل کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کے اساتذہ آکسفورڈ، کیمبرج ، ڈبلن یا ڈرہم سے تعلیم یافتہ ہونے چاہئے۔

 بالآخر یکم جنوری 1864ءکو حویلی کے دروازے باقاعدہ طور کالج کے لئے کھول دیئے گئے اور کالج نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر تھے ، جو کنگز کالج لندن میں عربی اور اسلامی قانون کے استاد تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا ۔ گورنمنٹ کالج کا الحاق یونیورسٹی آف کلکتہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ کالج کی پہلی کلاس میں کل نو طالب تھے۔ سر گنگا رام نے بھی اسی دور میں کالج سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ اپریل 1871ءمیں کالج کی عمارت کو انارکلی کے قریب ایک بنگلہ میں منقل کر دیا گیا۔ 1873ءمیں ایک بار پھر کالج منتقل ہوا اور رحیم خان کی کوٹھی میں کلاسیں ہونے لگیں۔ اور بعدازاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی موجودہ عمارت کی تعمیر کے بعد یہاں منتقل ہوگیا۔

شہر کے مرکز میں واقع گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی خوبصورت عمارت انگریز دور کا شاہکار ہے۔ جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ کالج کو کسی بہتر جگہ پر منتقل کر دینا چاہئے تو اس کے لئے سولجر گارڈن(گول باغ، موجودہ ناصر باغ) کے شمال میں جگہ پسند کی گئی اور نئی عمارت کی تعمیر کا آغاز ہوا ۔ گوتھک انداز میں تعمیر کی گئی یہ عمارت اپنے کلاک ٹاور کی وجہ سے دور دور تک دکھائی دیتی۔ اپنی شاندار فن تعمیر کے باعث اس کا شمار برصغیر کی خوبصورت ترین عمارتوں میں کیا جاتا ہے۔ اُس عہد میں تعمیر ہونے والی عمارتوں میں گوتھک انداز نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ جس کی ایک وجہ لارنس برادرز کے نام سے معروف ہنری اور جان لارنس کا اس خطہ میں تعمیر کے لئے یہ انداز اپنانا تھا۔ یہی انداز تعمیر کالج کی عمارت میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اس عمارت کا ڈیزائن ڈبلیو پرڈن نے تیار کیا جو کہ انگریز سرکار کے سپریڈنٹنٹ انجینئر تھے اور اس کی تعمیر کی ذمہ داری ایکزیگٹیو انجینئر کنہیا لال ہندی کے سپرد تھی جنہوں نے پانچ سال کی مدت میں تین لاکھ بیس ہزار روپے کی لاگت سے یہ شاندار عمارت تعمیر کروائی۔
مرکزی عمارت کی تعمیر کے دو سال بعد وائس رائے لارڈ لٹن نے یہاں منعقدہ ’پنجاب یونیورسٹی کالج( 1879ئ) کے کنووکیشن کی صدارت اس کے مرکزی ہال میں کی جسے خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ اس تقریب میں بے شمار مقامی و غیر مقامی مرد و خواتین نے شرکت کی ۔
 کنہیا لال ہندی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی قدیم عمارت کے بارے میں اپنی تصنیف ”تاریخ لاہور“ میں بیان کرتے ہیں کہ ” عمارت اس کی نہایت عمدہ پختہ، چونے سے بنائی گئی ہے۔ باہر کی عمارت اور برانڈوں کی عمارت پر ڈبل اینٹ لگائی گئی ہے۔ دو منزلہ مکان پختہ نہایت مقطع بنا ہے۔ اوپر کے برانڈوں اور دہنوں کے ستوں اور دوریاں، سیاہ پتھر چنیوٹی سے بنائی گئی ہیں۔ سقفِ زیریں یعنی نیچے کی منزل کی چھت بیم اور کڑیوں سے مرتب ہوئی ہے اور منزلِ ثانی کی چھت قینچی دار ہے جس پر سنگ ِ سلیٹ کی تختیاں نصب ہوئی ہیں۔ یہ پتھر کوہِ ڈہلہوزی سے آتا ہے۔ منزلِ ثانی کے برانڈوں کے دینوں کے زیردل (کذا) سنگ سرخ کے ڈالے گئے ہیں جس سے خوبی و استحکام اس مکان کا دوبالا ہوگیا ہے۔
  

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی عمارت کا سب سے دلکش پہلو اس کی دو مینار ہیں۔ جن میں سے ایک چھوٹا اور ایک بڑا ہے۔ بڑے ٹاور کے اوپر کلاک نصب ہے۔ انگریز دور کی عمارتوں میں متعدد عمارتوں کی تعمیر کے وقت کلاک نصب کرنے کا رواج بھی پروانچڑھا۔ کنہیا لال ہندی کے مطابق بڑے مینار کی بنیاد کرسی تک پندرہ فٹ ہے اور بلندی 176فٹ ہے۔ اس مینار کی چار منزلیں ہیں۔ چوتھی منزل لے اوپر گنبد طولانی نہایت خوبصورت بنا ہوا ہے اور گنبد پر جست کی چادریں نصب ہیں جس سے گنبد سے گنبد کی خوبصورتی قائم ہے۔ بالائی سیخ پر پر سمت کا تعین کے لئے چار حروف درج تھے اور ہوا کا رخ معلوم کرنے کے لئے پنکھا بھی نصب تھا ، اسی مینار کی چہارم منزل کے اندر ایک کلاک نصب ہے ۔ اس دور میں اس آواز دور دور سنائی دیتی تھی۔ کنہیا لال کے مطابق دوسرے مینار کی بلندی 128فٹ ہے اور یہ تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ تیسری منزل کے اوپر مخروطی طولانی گنبد بناہے۔ تیسری منزل کے چاروں طرف محرابی در کھلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک دہن کے ستون اور دوریاں ِ سیاہ پتھر کی اور جست کی تختی گنبد کے اوپر لگی ہوئی ہے اور بالائی سیخ میں ایک دائرہ سنہری شرق و غرب بتانے کے لئے نصب ہے۔ ہال اور کمروں کی بالائی قینچیوں کے اوپر زنجیرہ آہنہ ایسا خوبصورت نصب ہوا ہے جس سے مکان کی شان و شوکت دوبالا نظر آتی ہے۔ ان کے علاوہ کمروں کے تین روشندان چوبی بشتی مخروطی شکل کے ایسے لگائے گئے ہیں جس سے تازہ ہوا بھی کمرے کے اندر جاتی ہے اور روشنی بھی ہوتی ہے۔

 کالج و یونیورسٹی کا سب سے قدیم اور شاندار حصہ ”مین بلڈنگ“ کہلاتا ہے۔ کسی بھی تعلمی ادارے کی مرکزی عمارت وہاں کے طالب علموں کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔اس سے طالب علموں کی اس درسگاہ سے نسبت اور فخر کا عنصر بھی پیدا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی مرکزی عمارت کیلیسٹیل گوتھک اندازِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ کشادہ صحن اور بلند و بالا چھتیں اپنی مثال آپ ہیں جو نیو گوتھک فن تعمیر کا دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی عمارت کی تعمیر کے وقت لان کے لئے بھی جگہ مختص کی گئی ۔ طالب علموں کے لئے ”اوول گراﺅنڈ“ کے نام سے بیضوی شکل میں تیار کیا گیا میدان طلبا و طالبات کو بیٹھے، چہل قدمی کرنے اور مطالعہ کرنے کے لئے وسیع جگہ مہیا کرتا ہے ۔ 
انگریز دور میں اس کالج کی اہمیت کے بارے کنہیا لال ہندی یوں رقم طرز ہیں ” یہ عمارت حکام ذوی الاحتشام نے پسند فرمائی اور جن دنوں میں کہ شاہ زادہ عالی تبار ولی عہد سلطنت انگلیشہ جناب شہزادہ پرنس آف ویلز صاحب بہادر ولایت سے ہند کی سیر کو تشریف لاتے تو بہ وقت تشریف آوری لاہور کے اسی مکان میں اجلاس کیا۔ پھر جناب لارڈ لٹن صاحب بہادر گورنر جنرل نے لاہور میں آکر اسی میں اجلاس یونیورسٹی کا کیا اور مکان کو دیکھ کر خوشنودی ظاہر کی۔ “ کنہیا لال مزید لکھتے ہیں کہ وائسرائے لارڈ رپن بھی دو مرتبہ اس عمارت میں یونیورسٹی کی تقریب میں حاضر ہوئے تھے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی مین بلڈنگ کا ”مین ہال“ سب سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ مین ہال کو اب ڈاکٹر عبدالسلام ہال کا نام دے دیا گیا ہے۔ کلاک ٹاور کے نیچے واقع یہ ہال فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ ایک اوول گراﺅنڈ کے سامنے سے اور ایک مغرب کی جانب سے ہے۔ 
گورنمنٹ کاکج یونیورٹی کی قدیم عمارت کی کے علاوہ بھی اس درسگاہ کے کئی حصے ہے۔ طلبا و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے 1993ءمیں نیو پوسٹ گریجوایٹ بلاک کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس کی تعمیر 1999ءمیں مکمل ہوئی۔ یہ عمارت بیسمنٹ کے علاوہ چار منزلوں پر مشتمل ہے۔ بیسمنٹ کی جگہ پوسٹ گریجوایٹ لائبریری کے لئے مختص ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے دیگر حصوں میں نیو کیمسٹری بلاک اور نیو سائنس بلاک شامل ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں مین بلنڈنگ کے مشرقی جانب واقع ہیں۔ نیو کیمسٹری بلاک کی تعمیر بھی گوتھک انداز میں کی گئی ہے۔ اس کے بیرونی حصوں میں مین بلڈنگ کی مشابہت دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ محض دو منزلہ عمار ت ہے۔ ستونوں اور چار کونی آرچز عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس عمارت کی دیگر آرائش و فن تعمیر بھی مین بلڈنگ سے مماثلت رکھتا ہے اور اسی انداز تعمیر سے متاثر ہو کر ڈیزائن کی گئی ہے۔ نیو سائنس بلاک جس کی تعمیر نیو کیمسٹری بلاک سے پہلے عمل میں آئی تھی وہ بھی طلبا و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر میں بھی سرخ اینٹوں کا استعمال کیا گیا اور مین بلڈنگ کے انداز تعمیر میں سے صرف برآمدوں میں لگائی جانے والی گوتھک آرچ کا استعمال کیا گیا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی لائبریری بھی تاریخی اہمیت کی ھامل ہے۔ اس درسگاہ میں لائبریری کا قیام 1872ءمیں عمل میں آیا۔ اس کے پہلے انچارج سرداری لال تھے۔ بعدازاں 1916ءمیں اسد اللہ خان نے بطور لائبریرین گورنمنٹ کالج جوائن کیا ۔ اسد اللہ خان کو انگریز سرکار کی جانب سے ”خان بہادر“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ البتہ گورنمنٹ کالج میں باقاعدہ طور پر لائبریری کا قیام 1937ءمیں آیا، جب لائبریری کے لئے آفس اور کمرہ مختص کیا گیا۔ یہ لائبریری معروف تعلیم دان میاں فضل حسین کے نام سے منسوب ہیں۔ 1964ءمیں لائبریری کو مزید وسعت دی گئی تھی۔ 1999ءمیں نیو پوسٹ گریجوایٹ بلاک کی تعمیر کے بعد اس میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لائبریری بنائی گئی۔ اس کے علاوہ زوالوجی اور باٹنی کے مضامین کے لئے بھی الگ الگ لائبریوں کا قیام عمل میں آیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں لائبریریوںکا کل رقبہ 35000سکوئر فٹ ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جی سی یو کی لائبریریوں میں کتابوں کی تعداد تین لاکھ چوراسی ہزار اڑتیس ہے جبکہ دو سو چھتیس جرنلز اس کے علاوہ ہیں۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کل رقبہ 56 ایکڑ ہے ۔ اس میں 95کلاس رومز ہیں جبکہ طلبا و طالبات کے لیے الگ الگ تین تین ہاسٹلز بھی موجود ہیں۔ اس درسگاہ میں کل 98 لیباٹریاں ہیں، جن میں سے دس فزکس اور چھتیس کیمسٹری کے شعبہ کے لئے مخصوص ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے کل طالبا طالبات کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زائد ہے۔


گورنمنٹ کالج لاہور جو 2002ءمیں یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا اور اب یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ اس ادارے میں ایک سو پچاس سالہ تاریخ برصغیر کی کا اہم سرمایہ ہے۔ اس ادارے سے برصغیر کی بے شمار نامور شخصیات بحیثیت طالب علم اور مدرس منسلک رہیں۔ علم و ادب، فن، سائنس، سیاست، کھیل غرض زندگی کےر تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کا تعلق اسی تاریخی تعلیمی ادارے سے ہے جن میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، پطرس بخاری،ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی، ڈاکٹر سمر مبارک مند، اشفاق احمد، بانو قدسیہ ، ائرچیف مارشل مصحف علی میر، نواز شریف، میر ظفر اللہ جمالی ، یوسف رضا گیلانی، سابق بھارتی وزیراعظم اندر کمار گجرال، کرکٹر رمیز راجہ، ٹینس سٹار اعصام الحق سمیت دیگر بے شمار نامور شخصیات شامل ہیں ۔ جی سی یونیورسٹی لاہور دو نوبل انعام یافتہ شخصیات ڈاکٹر ہرگوبند کھرانہ اور ڈاکٹر عبدالسلام کی مادر علمی ہے۔ معروف بھارتی اداکار بلراج ساہنی اور دیوآنند بھی اسی تعلیمی ادارے سے منسلک رہے تھے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے پانچ وزاءعظم کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے۔
Dr Abdus-Salam Auditorium

ءمیں جب گورنمنٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا تو کالج کے آخری پرنسپل ڈاکٹر خالد آفتاب کو یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا۔ جنہوں نے اس ادارے کی سابقہ روایات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اکرام الحق ہیں جو یونیورسٹی کو مزید کامیابی کے منزلوں کے جانب لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں جی سی یونیورسٹی لاہور نے بے مثال ترقی کی ہے اور بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی میں ڈھالنے کیلئے اسے مزید اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سائنس اور تحقیق کے میدان میں جی سی یونیورسٹی کا کردار مثالی رہا ہے ۔ یہاں ملکی و غیر ملکی اساتذہ کرام اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان غیر ملکی اساتذہ کرا م کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی فرانس اور یوکرائن جیسے ممالک سے ہے۔ علاوہ ازیں دنیا کی 26یونیورسٹیوں کے ساتھ اس ادارے کا تحقیقی و تعلیمی اشتراک ہے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یہاں جلد ہی جدید معیار تعلیم کے مطابق نئے پروگرامز کے اجراءکا بھی آغاز کیا جائے گا۔ جن میں کیمیکل ٹیکسٹائل، اکاﺅنٹینسی،فائینینشل لائ، مائیکر بیالوجی، پرفارمنگ آرٹس، فارمیسی، پولیمر سائنس، سپیس سائنس، اکنامکس، پلازمہ فزکس، اربن سٹڈیز، بائیو ٹیکنالوجی اور انڈسٹریل کیمسٹری سمیت کئی دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں ادب، پرفارمنگ آرٹس، اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے شعبہ جات پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے حوالے سے یہاں 28 سوسائٹیز قائم ہیں۔ جن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبات میں طلبا کو اپنے فن کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ جن میں میوزک سوسائٹی، ڈرامہ سوسائٹیِ ڈیبیٹنگ اور ادبی سوسائٹی قابل ذکر ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی شاندار عمارت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلمی ورثے اور تاریخی اہمیت کے حوالے سے برصغیر کی اہم ترین درس گاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ ناصرف ایک تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے بلکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات نے بھی ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے۔ بلاشبہ گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ 

  

No comments:

Post a Comment